Invent a device that measures stress through sweat پسینے سے ذہنی تناؤ کا اندازہ لگانے والا آلہ ایجاد

Switzerland: Experts have developed a device to assess stress from sweat.
According to a foreign news agency, the experts of the Ecole Polytechnic Federal de Luzen in Switzerland have developed an electronic device that can be worn on the hand to assess mental stress. This device notes the amount of cortisol in the sweat that is released due to depression and stress.
The device is clock-shaped that sticks to the skin and measures the amount of cortisol, while cortisol also keeps blood pressure in the body, including glucose, normal.
It is important to take cortisol measurements in patients with stress, as stress can sometimes be fatal. This hand strap will be very useful for such patients.
This electrical strap is fitted with a transistor that detects cortisol in sweat. It can be used to diagnose depression and stress at any time.
Also read:
With the help of this tool, the whole system can be improved by detecting stress in pilots, medical staff and other sensitive people.

سوئزرلینڈ: ماہرین نے پسینے سے ذہنی تناؤ کا اندازہ لگانے والا آلہ بنا لیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سوئزرلینڈ میں ایکولے پولی ٹیکنیک فیڈرل ڈی لیوزین کے ماہرین نے ایک ایسا برقی آلہ بنایا ہے جسے ہاتھ پر پہن کر ذہنی تناؤ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ یہ آلہ پسینے میں کارٹیسول کی مقدار کو نوٹ کرتا ہے جو ڈپریشن اور ذہنی تناؤ کی وجہ سے خارج ہوتا ہے۔
تیار کردہ آلہ گھڑی کے سائز کا ہے جو جلد کے ساتھ چپک جاتا ہے اور کارٹیسول کی مقدار کو ناپتا رہتا ہے جبکہ کارٹیسول جسم میں گلوکوز سمیت بلڈ پریشر کو بھی نارمل رکھتا ہے۔
ذہنی تناؤ کا شکار مریضوں میں کارٹیسول کی پیمائش لینا ضروری ہوتا ہے کیونکہ ذہنی تناؤ بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ ہاتھ میں پہننے والا پٹہ ایسے مریضوں کے لیے انتہائی کارآمد ثابت ہو گا۔
اس برقی پٹے میں ایک ٹرانسسٹر نصب ہے جو پسینے میں کارٹیسول کا پتہ لگاتا ہے۔ اس کی مدد سے کسی بھی وقت ڈپریشن اور تناؤ کی کیفیت کو معلوم کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
اس آلے کی مدد سے پائلٹ، طبی عملے اور دیگر حساس کام کرنے والے افراد میں ذہنی تناؤ معلوم کر کے اس پورے نظام کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *